Wednesday, December 1, 2021
Home اردو ہر مظلوم کے حقوق کی جنگ اور اقلیتوں کی آواز اٹھانے سیاست...

ہر مظلوم کے حقوق کی جنگ اور اقلیتوں کی آواز اٹھانے سیاست میں آیا ہوں: عمران پرتاپ گڑھی


عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ نوجوان سیاست میں حصہ لیں، صرف حکومتیں بدلنے سے کام نہیں چلے گا، حکومت بننے کے بعد بھی وقتاً فوقتاً کئی مسائل سامنے آتے رہتے ہیں اس کا حل کرنا بھی ہمارا کام ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی، تصویر ٹوئٹر@ShayarImran
user

Engagement: 0

نئی دہلی: ہندوستان میں اقلیتوں کی آواز اٹھانے پر زور دیتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبہ اقلیت کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ میں سیاست میں آپ کی آواز اٹھانے آیا ہوں میں ہر مظلوم کے حقوق کی جنگ لڑنے آیا ہوں، مجھے فخر ہے کہ آج میں برسا منڈا کی سرزمین پر کھڑا ہوں، یہ بات انہوں نے رانچی کے گاندھی میدان میں جھارکھنڈ کانگریس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ ’اقلیتی حقوق کانفرنس‘ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس سرزمین پر ہوں جہاں مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی زندگی کے 3 سال سے زیادہ گزرے، لیکن جب میں اسی گراؤنڈ سے تبریز انصاری اور منہاج انصاری کی چیخیں سنتا ہوں تو میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں جامعہ میں ایک پروگرام میں بیٹھا تھا تو پتہ چلا کہ جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کی کس طرح موب لنچنگ کرکے قتل کیا گیا تھا، اس وقت بھی میں کسی کو بتائے بغیر جھارکھنڈ آیا تھا اور تبریز کے خاندان سے ملاقات کی تھی کیوں کہ میرا رشتہ جھارکھنڈ سے بہت پرانا ہے، لیکن آج میں آپ کے درمیان سیاسی مسائل کو لیکر یہاں پر آیا ہوں۔

عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ جھارکھنڈ میں غیر مسلموں کے ساتھ ہونے والے طلم و ستم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، بی جے پی نے جھار کھنڈ میں موب لنچنگ کی جو ’پریوگ شالہ‘ بنائی تھی اس ’پریوگ شالہ‘ کا خاتمہ جھارکھنڈ کے عوام نے اپنے ووٹ سے کر کے دیا اور ایسی مخلوط حکومت بنائی جو یہاں کے عوام کے لئے بہتر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں آپ کے مسائل کو اپنی شاعری کے ذریعے اٹھاتا تھا، اس وقت میں نے راہل گاندھی سے ملا قات کی تھی اور میں نے کانگریس پارٹی جوائن کی، کیوں کہ میں اچھی طرح سے جانتا تھا کہ صرف کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی ہی بی جے پی کی فسطائی طاقتوں کے خلاف آواز بلند کر کے ملک و ملک کے عوام کو بچا سکتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت ملک کو نفرت کے راستے پر لے جانا چاہتی ہے، ہندو مسلم کو تقسیم کرنا چاہتی ہے، تاریخی مقامات کے نام تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن میں ان فسطائی طاقتوں سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ نام بدل کر کیا کسی بھی قوم کا مستقبل بدل سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں اقلیتی برادری کے لوگوں کو اہم عہدوں پر بٹھایا اور اقلیتی برادری کے لوگوں کو صدر جمہوریہ، نائب صدر اور کابینہ کا وزیر بنایا۔

عمران پرتاپ گڑھی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اقلیتی محاذ کو ایک مشق کے طور جو اقلیتی حقوق کنونشن کی شکل میں شروع کیا گیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب میں کانگریس میں شامل ہوا اور مجھے شعبہ اقلیت کا قومی چیئرمین بنایا گیا تو میں راہل گاندھی سے ملا تھا اور میں نے اقلیتوں سے متعلق کچھ چیزیں ان کے سامنے رکھی تھیں جس میں راجستھان میں 6500 مدرسوں کے اساتذہ کو ریگولر کرنے کے بارے میں، جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی اور مدرسہ بورڈ کے قیام کی بات کی۔ عمران پرتاپ گڑھی نے ان مسائلوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسی وقت راہل گاندھی جی نے اس کو نوٹ بنا کر ریاستی حکومتوں کو بھیجا تھا لیکن آج کی بی جے پی حکومت ملک میں کسانوں کو کچل کچل کر مار رہی ہے، کسانوں کے خلاف تین ایسے قوانین نافذ کر دیئے ہیں جن کا براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کے دوستوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ جیسا کہ جھارکھنڈ حکومت کے موجودہ وزیر جھارکھنڈ میں موب لنچنگ کے خلاف سخت قانون چاہتے ہیں، تو میں بھی یہاں کے وزیر اعلیٰ سے جھارکھنڈ میں موب لنچنگ کے خلاف سخت ترین قانون بنانے کی اپیل کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان سیاست میں حصہ لیں، صرف حکومتیں بدلنے سے کام نہیں چلے گا، حکومت بننے کے بعد بھی وقتاً فوقتاً کئی مسائل سامنے آتے رہتے ہیں اس کا حل کرنا بھی ہمارا کام ہے۔ اس موقع پر جھارکھنڈ حکومت میں موجودہ کابینہ وزیر عالمگیر عالم، وزیر خزانہ ڈاکٹر رمیشور اورم، سابق مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے، کانگریس کے ریاستی صدر راجیش ٹھاکر، ایم ایل اے امبا پرساد، ایم ایل اے راجیش پردھان، ایم ایل اے بندھو ترکی، اقلیتی محکمہ کے قومی کوآرڈینیٹر احمد خان، شمیم احمد، سلمان پرتاپ گڑھی، فرحان اعظمی، لیاقت علی موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

error: We are sorry, You can\'t Copy it.